میرا سایہ
اب سورج کے عکس کے ساتھ
زمین پر نہیں گرتا
میرا نام لے کر مجھے کوئی نہیں پکارتا
کھانا تقسیم ہوتے ہوئے
میرے حصے کی پلیٹ
میرے آگے نہیں رکھی جاتی
شور میں میری آواز سنائی نہیں دیتی
جب جرم ہوتا ہے
ملزموں کی فہرست میں میرا نام نہیں آتا
قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں میں
مجھے شمار نہیں کیا جاتا
میری چاپ کسی کو سنائی نہیں دیتی
لیکن جب کبھی کوئی مجھے کہیں
دیکھ لیتا ہے
تو میرے سینے میں چھرا گھونپ دیتا ہے
عذرا عباس
No comments:
Post a Comment