کبھی یہ پائمالی دیکھ لینا
تم ان آنکھوں کو خالی دیکھ لینا
مجھے معلوم ہے تم آسماں ہو
زمیں کی خشک سالی دیکھ لینا
ہمارا ذکر آتے ہی زباں پر
تم اس چہرے پہ لالی دیکھ لینا
بہت مہنگی پڑے گی، آئینوں کو
ہماری خوش جمالی دیکھ لینا
فرح یہ بے وفائی کس کی خو تھی
طرح یہ کس نے ڈالی دیکھ لینا
فرح شاہ
No comments:
Post a Comment