Friday, 16 April 2021

کبھی یہ پائمالی دیکھ لینا

 کبھی یہ پائمالی دیکھ لینا

تم ان آنکھوں کو خالی دیکھ لینا

مجھے معلوم ہے تم آسماں ہو

زمیں کی خشک سالی دیکھ لینا

ہمارا ذکر آتے ہی زباں پر

تم اس چہرے پہ لالی دیکھ لینا

بہت مہنگی پڑے گی، آئینوں کو

ہماری خوش جمالی دیکھ لینا

فرح یہ بے وفائی کس کی خو تھی

طرح یہ کس نے ڈالی دیکھ لینا


فرح شاہ

No comments:

Post a Comment