گیت
موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی
من پوجا میں مِری دیوی نے خود میرے سیس نوائے ہیں
رکھ نین کنول مِرے چرنوں میں موہے سندر تلک لگائے ہیں
موہے ساگر کہہ کے پکارا ہے خود ندیا بن کے اتر گئی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی
میں سپنوں کے بازار میں ہوں مرا جیون درپن مت دیکھو
مِرا پھاگن سے کیا ناتا ہے موہے ساون ساون مت ڈھونڈو
میں ایک ہی رت میں سدا جیوں وہ رت ہے تیرے جوبن کی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی
تِرے گات کی سوندھی خوشبو سے مِرے گیت کی ہر برسات نئی
تِرے روپ کے اموا تلے جیوں تِری پریت ہے سدا سہاگن کی
تِرے تن سے تن کے دکھ سکھ ہیں تِرے من سے من کی جوت جگی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی
نگار صہبائی
No comments:
Post a Comment