Friday, 16 April 2021

موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر

 گیت


موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی


من پوجا میں مِری دیوی نے خود میرے سیس نوائے ہیں

رکھ نین کنول مِرے چرنوں میں موہے سندر تلک لگائے ہیں

موہے ساگر کہہ کے پکارا ہے خود ندیا بن کے اتر گئی

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی


میں سپنوں کے بازار میں ہوں مرا جیون درپن مت دیکھو

مِرا پھاگن سے کیا ناتا ہے موہے ساون ساون مت ڈھونڈو

میں ایک ہی رت میں سدا جیوں وہ رت ہے تیرے جوبن کی

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی


تِرے گات کی سوندھی خوشبو سے مِرے گیت کی ہر برسات نئی

تِرے روپ کے اموا تلے جیوں تِری پریت ہے سدا سہاگن کی

تِرے تن سے تن کے دکھ سکھ ہیں تِرے من سے من کی جوت جگی

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی


نگار صہبائی

No comments:

Post a Comment