فکر اور فن کی شان تھے راحت
بزمِ اردو کی جان تھے راحت
چھوڑ کر وہ چلے گئے ہم کو
خود میں جو اک جہان تھے راحت
پیار وہ ہر کسی سے کرتے تھے
سچ کہوں تو مہان تھے راحت
مدتوں وہ ہمیں رلائیں گے
شان اردو زبان تھے راحت
کس طرح آپ کو بھلائیں گے
آپ تو اپنی شان تھے راحت
تخت سے آنکھ وہ ملاتے تھے
اپنے جب درمیان تھے راحت
راہِ علم و ادب میں اے دلکش
فن کا اعلیٰ نشان تھے راحت
مصطفیٰ دلکش
No comments:
Post a Comment