Wednesday, 16 February 2022

اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بجھا دئیے

 اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بُجھا دئیے

جتنے بھی تھے چراغ وہ سارے بجھا دئیے

اس بار دے ہی دیتا میں دُشمن کو مات بھی

لیکن یہ کس نے میرے سہارے بجھا دئیے

ان آنسوؤں کی بھیڑ سے ٹُوٹا ہے حوصلہ

بارش نے آج پھر سے ستارے بجھا دئیے

وحشت زدہ ہوا تھا تو آنکھوں کو چیر کر

آتے تھے جتنے خواب تمہارے، بجھا دئیے

یہ بات طے ہوئی تھی کہ جلتے رہیں دِیے

لیکن یہ کیا کہ دل سے اُتارے بجھا دئیے


احمد منیب

No comments:

Post a Comment