تجھ کو جاگیر سے نکالنا ہے
درد تصویر سے نکالنا ہے
راستے نے پکڑ لیے پاؤں
خوف رہگیر سے نکالنا ہے
یہ جو کانٹا ہے دل میں خواہش کا
اس کو تدبیر سے نکالنا ہے
گمشدہ ہوں میں اپنے ہی گھر میں
مجھے توقیر سے نکالنا ہے
ہم نے ہندوستان کو اک دن
اپنے کشمیر سے نکالنا ہے
ہجر کو میں نے ایک دن اپنی
ساری جاگیر سے نکالنا ہے
وصل زنجیر میرے پاؤں کی
پاؤں زنجیر سے نکالنا ہے
کم سخن تجھ کو ایک دن میں نے
محفلِ میر سے نکالنا ہے
امان اللہ خان
No comments:
Post a Comment