Wednesday, 16 February 2022

تجھ کو جاگیر سے نکالنا ہے

 تجھ کو جاگیر سے نکالنا ہے

درد تصویر سے نکالنا ہے

راستے نے پکڑ لیے پاؤں

خوف رہگیر سے نکالنا ہے

یہ جو کانٹا ہے دل میں خواہش کا

اس کو تدبیر سے نکالنا ہے

گمشدہ ہوں میں اپنے ہی گھر میں

مجھے توقیر سے نکالنا ہے

ہم نے ہندوستان کو اک دن

اپنے کشمیر سے نکالنا ہے

ہجر کو میں نے ایک دن اپنی

ساری جاگیر سے نکالنا ہے

وصل زنجیر میرے پاؤں کی

پاؤں زنجیر سے نکالنا ہے

کم سخن تجھ کو ایک دن میں نے

محفلِ میر سے نکالنا ہے


امان اللہ خان

No comments:

Post a Comment