کہیں انصاف بکتا ہے کہیں انسان بِکتے ہیں
ہمارے ہاں مگر دونوں بہت آسان بکتے ہیں
کہیں مفتی کہیں حاکم، نہیں خوفِ خدا جن کو
کہ دونوں کے کبھی فتوے کبھی فرمان بکتے ہیں
جسے دولت، جسے طاقت، اسے انصاف ملتا ہے
یہاں کمزور طبقہ کے فقط ارمان بکتے ہیں
یہاں لاہور کا ہو، یا کہ ساہیوال کا صدمہ
یہاں مقتول ہی مجرم، یہاں ایمان بکتے ہیں
کبھی آئین کو بدلا، کبھی ترمیم ہوتی ہے
مگر بدلا نہیں منصف، یہاں ایمان بکتے ہیں
نہیں اسلام کو خطرہ، مگر ایمان خطرے میں
کہ لالچ میں کبھی یاں حافظِ قرآن بکتے ہیں
کسی کی جان کو خطرہ، کہیں نیلام عصمت ہے
کہ اب انسان بھی مثل یہاں حیوان بکتے ہیں
ہمیں اپنے وطن سے ہے محبت بھی عقیدت بھی
مگر افسوس ہے آغا! یہاں ایوان بکتے ہیں
آغا نیاز مگسی
No comments:
Post a Comment