شب کی گہرائیوں نے حد کر دی
اس پہ تنہائیوں نے حد کر دی
ایک لمحے کو کیا ملیں نظریں
پھر تو رُسوائیوں نے حد کر دی
شام ہوتے ہی کر گئیں تنہا
اب تو پرچھائیوں نے حد کر دی
کیا تِرا نام سن لیا ہم نے
دل کی شہنائیوں نے حد کر دی
وصل کی رات یاد آئی تو
میری انگڑائیوں نے حد کر دی
حسن پر جب کیا مقدمۂ ہجر
اس کی شنوائیوں نے حد کر دی
ہما ساریہ
No comments:
Post a Comment