Wednesday, 16 February 2022

شب کی گہرائیوں نے حد کر دی

 شب کی گہرائیوں نے حد کر دی

اس پہ تنہائیوں نے حد کر دی

ایک لمحے کو کیا ملیں نظریں

پھر تو رُسوائیوں نے حد کر دی

شام ہوتے ہی کر گئیں تنہا

اب تو پرچھائیوں نے حد کر دی

کیا تِرا نام سن لیا ہم نے

دل کی شہنائیوں نے حد کر دی

وصل کی رات یاد آئی تو

میری انگڑائیوں نے حد کر دی

حسن پر جب کیا مقدمۂ ہجر

اس کی شنوائیوں نے حد کر دی


ہما ساریہ

No comments:

Post a Comment