اگر میں جھوٹ بولوں تو مِرا کردار خطرے میں
اگر سچ بو لتا ہوں تو مِری دستار خطرے میں
زمانہ دشمنِ جاں ہو گیا سچ بات کہنے پر
بڑی مشکل میں جاں ہے آج کل ہوں یار خطرے میں
امیرِ شہر کی خاطر سڑک تعمیر ہوتی ہے
غریبوں کے مکاں آتے ہیں اور اشجار خطرے میں
نہ لے آہیں غریبوں کی امیرِ شہر! سن لے تُو
کہیں آ جائے نہ تیری در و دیوار خطرے میں
دعائیں تم ہمیں مت دو سنو اے حاکمِ دوراں
حکیمِ وقت سے ہیں اب کئی بیمار خطرے میں
حکومت ہم نے دے دی ہے میاں قاتل کے ہاتھوں میں
کبھی ہے جان خطرے میں کبھی گھر بار خطرے میں
اکڑ کے دیکھ مت مفلس کو اپنی کار سے ناداں
کہیں آ جائے نہ تیری چمکتی کار خطرے میں
مجھے چپ رہنے دو یارو مجھے چھیڑو نہ تم ہرگز
میں لب کھولوں تو آ جائیں کئی کردار خطرے میں
کوئی جا کے اسے کہہ دے اے دلکش ہوش میں آئے
اٹھا دیں ہاتھ تو آ جائے گی سرکار خطرے میں
مصطفیٰ دلکش
No comments:
Post a Comment