Thursday, 17 February 2022

جھوٹ باتوں میں سدا، ساتھ ہیں عادات عبث

 جھوٹ باتوں میں سدا، ساتھ ہیں عادات عبث

آنکھ اموال پہ بد روحوں سی حرکات عبث

جو نہیں مانتے قرآن و احادیث کی بات

ایسے لوگوں سے تعلق بھی ملاقات عبث

قوم پر ظلم کہیں، اور کہیں صدقے بھی

جرم سے باز نہ آؤ تو ہیں صدقات عبث

گر تِرے دل کی کدورت بھی نہیں کھینچ سکیں

پھر عبادت میں گزارے ہوئے لمحات عبث

درد ہے دل میں تو آؤ ناں بدل دیں خود کو

پانی جب سر سے گزر جائے تو صدمات عبث

گر مِری قوم ہو ظلمات کی چکّی میں پِسی

ان کو آرام نہ دے پاؤں تو جذبات عبث

جو قلم بکتے ہوں ظالم کی ثنا خوانی میں

ان سے تحریر شدہ سارے ہی صفحات عبث

ان سے امید نہیں باندھتا عامر جن کی

اولاً بات عبث، لکھیں تو رشحات عبث


عامر حسنی

No comments:

Post a Comment