یہاں عالم، یہاں فاضل، یہاں زردار بِکتے ہیں
کہیں مفلس، کہیں امرا، کہیں نادار بکتے ہیں
یہاں پہ مصر کا بازار سجتا ہے نہ یوسف ہے
یہاں میرے قبیلے کے مگر سردار بکتے ہیں
بھروسہ ہم کریں کس پہ کہاں کب کون بکتا ہے
کہیں دربان بکتے ہیں، کہیں دربار بکتے ہیں
کہیں لالچ، کہیں خطرہ، کسی پہ خوف طاری ہے
کہیں اک بار بکتے ہیں، کہیں ہر بار بکتے ہیں ۔
یہاں کچھ لوگ بستے ہیں کسی درویش کی صورت
بہت یہ رازداری سے مرے دلدار بکتے ہیں
یقیں آتا نہیں لیکن حقیقت ہے یہی آغا
یہاں اخبار کی طرح مرے کچھ یار بکتے ہیں
آغا نیاز مگسی
No comments:
Post a Comment