ہزار کوششیں کی تھیں جسے بجھانے تک
وہ آگ پھیل گئی میرے آشیانے تک
چرا کے لے گئے رہزن ہر ایک شے لیکن
رسائی پا نہ سکے عِلم کے خزانے تک
سمجھ گئی ہوں میں اب تو تِری حقیقت کو
فریب کھائے ہیں میں نے بہت زمانے تک
نیا اب اس سے تعلق بنا نہیں سکتی
طویل عمر کٹی ہے جسے بھلانے تک
بدل گئے ہیں معانی برائی کے لوگو
جب آئی بات کسی بھی بڑے گھرانے تک
عجیب سحر تھا تیری زبان میں اس پَل
خموش بزم رہی ہے غزل سنانے تک
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment