Thursday, 17 February 2022

ہزار کوششیں کی تھیں جسے بجھانے تک

 ہزار کوششیں کی تھیں جسے بجھانے تک

وہ آگ پھیل گئی میرے آشیانے تک

چرا کے لے گئے رہزن ہر ایک شے لیکن

رسائی پا نہ سکے عِلم کے خزانے تک

سمجھ گئی ہوں میں اب تو تِری حقیقت کو

فریب کھائے ہیں میں نے بہت زمانے تک

نیا اب اس سے تعلق بنا نہیں سکتی

طویل عمر کٹی ہے جسے بھلانے تک

بدل گئے ہیں معانی برائی کے لوگو

جب آئی بات کسی بھی بڑے گھرانے تک

عجیب سحر تھا تیری زبان میں اس پَل

خموش بزم رہی ہے غزل سنانے تک


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment