Thursday, 17 February 2022

تو حاکم ہے تو ان آفات پر رو کیا رہا ہے

 تُو حاکم ہے تو ان آفات پر رو کیا رہا ہے

ہمیں بتلا ہمارے دیس میں ہو کیا رہا ہے

تِرے ہاتھوں پہ ہیں کم سِن لہو کے سُرخ دھبّے

ارے! یہ داغ مِٹنے کے نہیں، دھو کیا رہا ہے

اور اب فصلِ اذیّت کاٹنے میں شور کیسا

اگر بوتے ہوئے سوچا نہیں، بو کیا رہا ہے

گلابی عصمتوں کو نوچ کر بولے درندے

نُچے اُدھڑے بدن میں باقی دیکھو کیا رہا ہے

گلی کوچوں پہ چھائی ہے عزا کی رات، فارس

یہ ماتم کی گھڑی ہے، ہوش کر، سو کیا رہا ہے


رحمان فارس

No comments:

Post a Comment