Thursday, 17 February 2022

سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے

 سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے

💢ہمارے بیچ فقط اک یہی لڑائی ہے

کسی نے خود سے تراشا ہے اس کو تھوڑا بہت

کسی کے واسطے دنیا بنی بنائی ہے

بھلے یہ سر ہی کٹے پر کہیں جبیں نہ جھکے

ہمارے پُرکھوں نے دولت یہی کمائی ہے

یہ زندگی یہ خوشی اور غم بھی تم بانٹو

تمہارے پاس تو ویسے بھی کل خدائی ہے

منیب ایسے زمانے میں ہوں اتارا گیا

جہاں ملال ہے، ماتم ہے، نارسائی ہے


احمد منیب

No comments:

Post a Comment