زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے
موت چپکے سے دبے پاؤں چلی جاتی ہے
لوگ ہنستے ہوئے چہرے کو پڑھا کرتے ہیں
حالِت دل پہ کہاں، کِن کی نظر جاتی ہے
صبح پھر دل میں اک امید جگا دیتی ہے
شام پھر یوں ہی تماشوں میں گزر جاتی ہے
دن تِری یادوں کے سائے میں بدل جاتا ہے
رات پھر غم کے اندھیروں میں گزر جاتی ہے
ایک اجڑے ہوئے ویران سے گھر سے الماس
کوئی آہٹ، کوئی دستک سی مگر آتی ہے
الماس کبیر جاوید
No comments:
Post a Comment