Thursday, 17 February 2022

زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے

 زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے

موت چپکے سے دبے پاؤں چلی جاتی ہے

لوگ ہنستے ہوئے چہرے کو پڑھا کرتے ہیں

حالِت دل پہ کہاں، کِن کی نظر جاتی ہے

صبح پھر دل میں اک امید جگا دیتی ہے

شام پھر یوں ہی تماشوں میں گزر جاتی ہے

دن تِری یادوں کے سائے میں بدل جاتا ہے

رات پھر غم کے اندھیروں میں گزر جاتی ہے

ایک اجڑے ہوئے ویران سے گھر سے الماس

کوئی آہٹ، کوئی دستک سی مگر آتی ہے


الماس کبیر جاوید

No comments:

Post a Comment