Thursday, 17 February 2022

میں حالت وجد میں رہا بے خبر رہا تھا

 میں حالتِ وجد میں رہا بے خبر رہا تھا

کہ زینہ زینہ وہ مجھ میں جیسے اتر رہا تھا

نہ جانے کتنی تھیں منزلیں اور میرے آگے

میں ایک دنیا سے ہو کے اک سے گزر رہا تھا

گزر رہی تھی مِری جوانی بھی دھیرے دھیرے

میں اپنے ہاتھوں سے جیسے خود ہی سنور رہا تھا

میں دانہ دانہ تِرے گلے کا تھا ہار، لیکن

تڑپ رہا تھا، تڑخ رہا تھا، بکھر رہا تھا

وہاں پہ اب بھی مِری نشانی دھڑک رہی ہے

میں کچھ دنوں کے لیے جہاں معتبر رہا تھا

یہ مجھ میں کچھ روز سے جو خوشبو رچی بسی ہے

یہ اس لیے ہے کہ تُو مِرا ہمسفر رہا تھا

چراغ درویش نے جلایا نہیں سحر تک

چراغ میں دکھ تھا اس لیے طاق پر رہا تھا

کسک بڑی دیر تک رہی تھی ہمارے دل میں

اگرچہ سارا معاملہ مختصر رہا تھا

یہ بے گھری میری اس طرح سے کبھی نہیں تھی

یہیں کہیں ان گھپاؤں میں اپنا گھر رہا تھا

مِری وساطت سے بولتی کائنات تجھ سے

نہ چھوڑ مجھ کو کہ میں تِرا نامہ بر رہا تھا

اسی لیے تو ستارے تجھ کو سمجھ رہے تھے

یہ نیلگوں آسماں تِری رہگزر رہا تھا


امان اللہ خان

No comments:

Post a Comment