Thursday, 17 February 2022

ہم نے تھا اک شہر بسایا یونس جی

 ہم نے تھا اک شہر بسایا یونس جی

لیکن ہم کو راس نہ آیا یونس جی

میں نے اس کو باندھ لیا تھا آنکھوں سے

پھر وہ مجھ سے بھاگ نہ پایا یونس جی

آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں، ٹکرائیں

ساغر سے ساغر ٹکرایا یونس جی

جلتی آگ کے شعلے یک دم بیٹھ گئے

جب میں نے اک شعر سنایا یونس جی

اس کوچے کے لوگ بڑے ہی ظالم ہیں

میں نے آپ کو تھا سمجھایا یونس جی

مجھ پر میرے نبیؐ کی رحمت رقصاں ہے

مجھ پر ہے مِرے ربّ کا سایا یونس جی


یونس امین

No comments:

Post a Comment