Thursday, 17 February 2022

مری جاں یہ محبت میں کہاوت ہے محبت کی

 مِری جاں یہ محبت میں کہاوت ہے محبت کی

کہ شب بھر نیند نہ آنا علامت ہے محبت کی

محبت چیز ایسی ہے جسے محسوس کرتے ہیں

کوئی رنگ و نسل کوئی نہ صورت ہے محبت کی

کسی سے بھی کسی کو بھی کسی بھی وقت ہوتی ہے

کہ یک دم یار ہونے کی روایت ہے محبت کی

حسیں بھی ہے ہنرمند بھی مگر اک ہے خرابی بھی

مِرے معشوق میں تھوڑی سی قلت ہے محبت کی

تجھے کھونے کا ڈر مجھ کو کسی ساعت نہ آئے گا

کہ جب تک میرے اس دل میں عقیدت ہے محبت کی

نہ تنہائی میں تنہائی، نہ جلوے میں کوئی ہمت

میں حیراں ہوں محبت میں یہ حالت ہے محبت کی

محبت ہی محبت ہو،۔ ترانے ہی ترانے ہوں

مگر اے التمش اس میں ضرورت ہے محبت کی


رانا التمش

No comments:

Post a Comment