Saturday, 16 April 2022

نور ہے یا کمال ہے کیا ہے

 نور ہے یا کمال ہے کیا ہے

مجھ میں تیرا جمال ہے کیا ہے

جاتے جاتے نہ کچھ کہا مجھ سے

دل میں میرا ملال ہے کیا ہے

کون مجھ کو اچھال ہے رکھا

کیا یہ تیرا خیال ہے کیا ہے

تتلیاں چومتی ہیں گالوں کو

پھول ہے یا یہ گال ہے کیا ہے

لاش ہی لاش ہے جدھر دیکھو

یہ بتا، یہ بھوپال ہے کیا ہے؟

ہنس کے ملتا ہے آج کل مجھ سے

یہ تِری کوئی چال ہے کیا ہےِ

جسم انگاروں سا دہکتا یہ

خوں میں میرے سیال ہے کیا ہے

مسکرا کیوں رہے ہو اے دلکش

دل میں میرا خیال ہے کیا ہے


مصطفیٰ دلکش

No comments:

Post a Comment