Saturday, 16 April 2022

ہجر میں ٹوٹ کہیں درد سے ہارا ہو گا

ہجر میں ٹوٹ کہیں درد سے ہارا ہو گا

یاد کی راکھ جلا،۔ وقت گزارا ہو گا

تُو مِری دیکھ ہنسی، دیکھ ہنسی ایسی ہے

جس طرح اوڑھ ہنسی ، درد اتارا ہو گا

جا، اسی روز تِری سمت چلی آنا ہے

جب تِرا یار! مِری سمت اشارہ ہو گا

اب تِرا ربط اسے شاد کیے رکھتا ہے

دل نہیں، بعد تِرے ہجر ستارہ ہو گا

میں تِرے ساتھ رہی دیکھ سکا تُو مجھ کو

پھر مِرے بعد مجھے خاک پکارا ہو گا


مالا راجپوت

No comments:

Post a Comment