ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے
دل اور بھی اب تنہا ہوا ہے
پہنچی خبر میرے مرنے کی جب
سن کر کہا؛ یہ اچھا ہوا ہے
مانوس ہوں ویرانی سے اس کی
یہ دشت میرا دیکھا ہوا ہے
اب کیوں چھڑاتے ہو مجھ سے دامن
سب ٹھیک ہی تھا اب کیا ہوا ہے
پھر کیا اگر وہ میرا نہیں تھا
تم ہی کہو وہ کس کا ہوا ہے
بس اب نہیں جانا اس گلی میں
میں نے یہ پکا سوچا ہوا ہے
جس تخت پر تم یوں مر رہے ہو
وہ تو ہمارا چھوڑا ہوا ہے
یہ دل حقیقت میں ہے اسی کا
سینے میں ویسے رکھا ہوا ہے
تم اور بھڑکا دو آ کے اس کو
وہ مجھ پہ پہلے برسا ہوا ہے
دیکھو ناصر اس کی بزم میں پھر
کونے سے لگ کر بیٹھا ہوا ہے
ناصر سلیم
No comments:
Post a Comment