Saturday, 16 April 2022

ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے

 ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے

دل اور بھی اب تنہا ہوا ہے

پہنچی خبر میرے مرنے کی جب

سن کر کہا؛ یہ اچھا ہوا ہے

مانوس ہوں ویرانی سے اس کی

یہ دشت میرا دیکھا ہوا ہے

اب کیوں چھڑاتے ہو مجھ سے دامن

سب ٹھیک ہی تھا اب کیا ہوا ہے

پھر کیا اگر وہ میرا نہیں تھا

تم ہی کہو وہ کس کا ہوا ہے

بس اب نہیں جانا اس گلی میں

میں نے یہ پکا سوچا ہوا ہے

جس تخت پر تم یوں مر رہے ہو

وہ تو ہمارا چھوڑا ہوا ہے

یہ دل حقیقت میں ہے اسی کا

سینے میں ویسے رکھا ہوا ہے

تم اور بھڑکا دو آ کے اس کو

وہ مجھ پہ پہلے برسا ہوا ہے

دیکھو ناصر اس کی بزم میں پھر

کونے سے لگ کر بیٹھا ہوا ہے


ناصر سلیم

No comments:

Post a Comment