Saturday, 16 April 2022

لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں

 لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں

جان پڑ جائے دل دفینے میں

جسم زخمی تھا اور گیلے پر

آگ اک جل رہی تھی سینے میں

رکنے پائی بھی ہے اڑان کبھی

کب، پنہ لی کسی سفینے میں؟

گِھر کے برسے گھٹا تِرے غم کی

کچھ مزا بھر دے میرے جینے میں

خشک نہرِ فرات ہے، کیسے

حظ اٹھائیں شراب پینے میں

جان کوفے میں آن کر نکلی

دل بندھا رہ گیا مدینے میں

اس قدر خون کا تھا پیاسا کیوں

اس قدر بغض تھا کمینے میں


احمد منیب

No comments:

Post a Comment