لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں
جان پڑ جائے دل دفینے میں
جسم زخمی تھا اور گیلے پر
آگ اک جل رہی تھی سینے میں
رکنے پائی بھی ہے اڑان کبھی
کب، پنہ لی کسی سفینے میں؟
گِھر کے برسے گھٹا تِرے غم کی
کچھ مزا بھر دے میرے جینے میں
خشک نہرِ فرات ہے، کیسے
حظ اٹھائیں شراب پینے میں
جان کوفے میں آن کر نکلی
دل بندھا رہ گیا مدینے میں
اس قدر خون کا تھا پیاسا کیوں
اس قدر بغض تھا کمینے میں
احمد منیب
No comments:
Post a Comment