کن آنکھوں کے دیپ ہو کن کو بھائے ہو
کس کے ہو، آخر کس کے کہلائے ہو
ایسے کون برستا ہے مجبوری میں
کس کا ساون چوری کر کے لائے ہو
ہم کو اپنے لوگ ہی کافی تھے پاگل
تم دُکھ دینے اتنی دور سے آئے ہو
کس نے تم کو درس دیا ہے دنیا کا
کس کی باتیں سُن سُن کر گھبرائے ہو
میری چھت پر ہجر کی دھوپ کھڑی کر کے
کس پر وصل کا بادل بن کر چھائے ہو
دیمک بن کر چاٹ رہا ہے بس یہ غم
تم میرے اپنے ہو، اور پرائے ہو
نام علیؑ کا لینے والے زین! پیا
تم بھی کرماں والی ماں کے جائے ہو
زین شکیل
No comments:
Post a Comment