شب کے پہرِ آخر میں
شب کے پہرِ آخر میں
یہ کون ہے جو چِلاتا ہے
گلا پھاڑ کے چیختا ہے
بے مقصد شور مچاتا ہے
آواز گداگر جیسی ہے
پر صدا عجیب لگاتا ہے
چند لمحوں کا سوال ہے سائیں
دے اللہ کے نام پہ سخیا
کوئی روٹی دام نہ مانگے ہے
یہ اوگن ہارا تو بس
چند گھڑیاں تیری مانگے ہے
کوئی روکھی سوکھی چاہت دے
کوئی حرف تسلی کا کر دان
یہ وقت ہے کوئی مانگنے کا
جواب اسے یہ ملتا ہے
بے وقت چلے تم آتے ہو
اور ویسے بھی یہ دنیا ہے
لمحوں کی فرست کس کو ہے
اور قحط پڑا ہے جذبوں کا
جاؤ بابا، معاف کرو
لے جاؤ اپنا کاسۂ دل
کسی اور نگر فریاد کرو
واصف اسلم
No comments:
Post a Comment