آپ بھی یہ چاہتے ہیں مسکرانا چھوڑ دیں
زندگی کو ہم گلے اپنے لگانا چھوڑ دیں
کیا تصور میں بھی گھر آباد کر سکتے نہیں
زلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں
ضبطِ دل سے کام لیں اہلِ محبت فرض ہے
بھول کر کیا قصۂ غم بھی سنانا چھوڑ دیں
حاکم دوراں کی دہشت گردیوں کو دیکھنے
سونے والوں کو بھی اب کیا ہم جگانا چھوڑ دیں
ظالموں سے کہہ دو وہ بھی زد میں اس کی آئیں گے
یہ ہمارا گھر، تمہارا گھر جلانا چھوڑ دیں
وقت پھر وہ آ گیا ہے سوچنا کیا دوستو
باندھ لیں سر پر کفن، آنسو بہانا چھوڑ دیں
قاتلوں کی، رہزنوں کی خیر اب دلکش نہیں
ظالموں سے کہہ دو ہم کو اب ستانا چھوڑ دیں
مصطفیٰ دلکش
No comments:
Post a Comment