Tuesday, 15 February 2022

در بدر حسرت تعمیر لئے پھرتے ہیں

 در بدر حسرتِ تعمیر لیے پھرتے ہیں

پاؤں میں ایک ہی زنجیر لیے پھرتے ہیں

ہجر ہے دشت ہے وحشت ہے بیابانی ہے

کتنے موسم تِرے دِلگیر لیے پھرتے ہیں

تجھ کو شاید نہیں معلوم کہ ہم آنکھوں میں

کس لیے ایک ہی تصویر لیے پھرتے ہیں

بس یہی عجز ہے کُل اپنا اثاثہ بھائی

یہ جو ہم جرأتِ تقصیر لیے پھرتے ہیں

اہلِ دنیا کا ہے پیمانہ زر و سیم یہاں

اور ہم اہلِ سخن میر لیے پھرتے ہیں

یہ مقدر نہیں جو ہم کو لیے پھرتا ہے

بلکہ یہ ہم ہیں جو تقدیر لیے پھرتے ہیں

درد کی رات ہے اور ایک اداسی یونس

زندگی! ہم یہی جاگیر لیے پھرتے ہیں


یونس امین

No comments:

Post a Comment