Tuesday, 15 February 2022

بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

 بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

محبت کے سبب ہمزاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی لڑ کر کہ اپنی جان دیتے ہیں وطن پر ہم

کبھی ناموس یا اجداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی ہم شیر بنتے ہیں کبھی گیدڑ سے ہیں کمتر

کبھی شاگرد، کبھی استاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی خود غرض بن کر یوں وطن بھی بیچتے ہیں ہم

کہ لالچ میں کبھی اولاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی سب کچھ بناتے ہیں کبھی کچھ بھی نہیں بنتا

کہ اپنی ہی کبھی ایجاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

محبت ہو کسی سے تو بلا تاخیر ہم آغا

کہ بس یوں ہی دل برباد بھی ہم بیچ دیتے ہیں


آغا نیاز مگسی

No comments:

Post a Comment