بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
محبت کے سبب ہمزاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی لڑ کر کہ اپنی جان دیتے ہیں وطن پر ہم
کبھی ناموس یا اجداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی ہم شیر بنتے ہیں کبھی گیدڑ سے ہیں کمتر
کبھی شاگرد، کبھی استاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی خود غرض بن کر یوں وطن بھی بیچتے ہیں ہم
کہ لالچ میں کبھی اولاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی سب کچھ بناتے ہیں کبھی کچھ بھی نہیں بنتا
کہ اپنی ہی کبھی ایجاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
محبت ہو کسی سے تو بلا تاخیر ہم آغا
کہ بس یوں ہی دل برباد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
آغا نیاز مگسی
No comments:
Post a Comment