اس کی خموشیوں پہ گُھٹن اور بڑھ گئی
لوحِ جبیں پہ میری شِکن اور بڑھ گئی
پہلے تو اک خفیف سی سوزش تھی زخم میں
رکھا جو اس نے ہاتھ، جلن اور بڑھ گئی
ہوتی نہ قدر مجھ کو جو ہوتا وہ دستیاب
حاصل نہ ہو سکا تو لگن اور بڑھ گئی
ہمراہ جب مِرے تھا وہ آسان تھا سفر
بدلی جو اس نے راہ تھکن اور بڑھ گئی
کانٹوں سے دل لگانے کی عادت پڑے نہ کیوں
'پھولوں کے تذکرے سے چُبھن اور بڑھ گئی'
محفل میں تھا وہ غیر کی اس کا نہ تھا ملال
پھیری نظر جو اس نے جلن اور بڑھ گئی
الماس جس کے ہجر میں دل بے قرار تھا
موجودگی سے اس کی گُھٹن اور بڑھ گئی
الماس کبیر جاوید
No comments:
Post a Comment