عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لب سِل گئے قتیل بس اک التجا کے بعد
میں چاہتا ہوں کس کو شہِ انبیاءﷺ کے بعد
لایا ہوں اُنؐ کے در سے میں بھر بھر کے جھولیاں
آسودہ نظر ہوں میں اُنﷺ کی عطا کے بعد
قلب و نظر مِرا دین تھے صحت ملی مجھے
اُس شہرِ بے مثال کی آب و ہوا کے بعد
کل کائنات کے لیے جب وہ ہوئے طلوع
سب چاند ماند پڑ گئے اُنؐ کی ضیاء کے بعد
باقی تھا مرحلہ ابھی تکمیلِ دین کا
آئے حضور اس لیے سب انبیاء کے بعد
دل تو کچھ اور کہتا ہے لیکن میں کیا کروں
سجدا روا نہیں ہے کسی کو خدا کے بعد
دنیا میں احترام کے قابل ہیں کتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰؐ کے بعد
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment