ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے
ٹوٹی ہوئی کشتی سے اترنا بھی نہیں ہے
بیٹھے ہیں شب و روز تصور میں اسی کے
وہ راہگزر جس سے گزرنا بھی نہیں ہے
لکھیں گے بہ ہر حال حکایاتِ جنوں ہم
سچائی قلم میں ہے تو ڈرنا بھی نہیں ہے
احباب بھی اب تیز کیے بیٹھے ہیں ناخن
اب اپنے کسی زخم کو بھرنا بھی نہیں ہے
قاتل کو بلا لاؤ،۔ ستمگر کو صدا دو
انکار مجھے موت سے کرنا بھی نہیں ہے
یہ خاک ہے آدم کی، دبا اس کو لحد میں
اس خاک کو راہوں میں بکھرنا بھی نہیں ہے
احسان مسافت میں کسی کا نہیں لیتے
دیوار کے سائے میں ٹھہرنا بھی نہیں ہے
جلیل ساز
No comments:
Post a Comment