Monday, 12 July 2021

ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے

 ساحل پہ گوارہ ہمیں مرنا بھی نہیں ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی سے اترنا بھی نہیں ہے

بیٹھے ہیں شب و روز تصور میں اسی کے

وہ راہگزر جس سے گزرنا بھی نہیں ہے

لکھیں گے بہ ہر حال حکایاتِ جنوں ہم

سچائی قلم میں ہے تو ڈرنا بھی نہیں ہے

احباب بھی اب تیز کیے بیٹھے ہیں ناخن

اب اپنے کسی زخم کو بھرنا بھی نہیں ہے

قاتل کو بلا لاؤ،۔ ستمگر کو صدا دو

انکار مجھے موت سے کرنا بھی نہیں ہے

یہ خاک ہے آدم کی، دبا اس کو لحد میں

اس خاک کو راہوں میں بکھرنا بھی نہیں ہے

احسان مسافت میں کسی کا نہیں لیتے

دیوار کے سائے میں ٹھہرنا بھی نہیں ہے


جلیل ساز

No comments:

Post a Comment