بستی بستی، کوچہ کوچہ، شہر کو لالہ فام کیا
دیکھو تو ان اہلِ ہوس نے کیسا قتلِ عام کیا
ہم تو جہاں کے سلطانوں سے بہتر اس کو جانے ہیں
جس نے رُوکھی سُوکھی کھا کر گدڑی میں آرام کیا
حِرص و ہوا کے اس جنگل میں صرف وہی ہے مردِ جری
نفس کا طائر جس انساں نے زیست میں زیرِ دام کیا
قریہ قریہ خاک اڑا کر شام و سحر درویشوں نے
کیسے کیسے سنگدلوں کو حسنِ عمل سے رام کیا
ظلم کی کالک خون سے دھو کر حق کی خاطر ولیوں نے
لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے، ایسا اونچا کام کیا
دیکھ کے نیرنگیٔ گُلشن ٹھنڈے دل سے سوچو تو
کس نے فروغِ ظلمت دے کر نُورِ سحر کو شام کیا
جب بھی رویا صدقِ دل سے رب کی حُب میں زار و زار
اشکِ جلی نے میرے حق میں رحمت بن کر کام کیا
جلی امروہوی
No comments:
Post a Comment