Monday, 12 July 2021

ظلم کے پاؤں سے جو پھول مسل جاتے ہیں

 ظلم کے پاؤں سے جو پھول مسل جاتے ہیں

خار بن کر وہی پتھر پہ نکل آتے ہیں

پھر بہاروں کی ضرورت نہیں رہتی ان کو

یہ خزاں میں بھی بڑی شان سے کھل جاتے ہیں

غنچے وہ ملتی نہیں ہے جنہیں آغوش کوئی

وہی مٹتے ہیں تو کیچڑ میں کنول آتے ہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں میں نہ آنکھیں ڈالو

ان میں طوفان ہیں چھیڑ سے مچل جاتے ہیں

وہ جو کل رونق فانوس تھی ایوان کے لیے

آج اس شمع سے ایوان دہل جاتے ہیں

دھوپ تھی تیز تو سائے بھی تھے پیڑوں کے تلے

اس کے ڈھلتے ہی رخ ان کے بھی بدل جاتے ہیں

ہم نے سمجھا ہے زمانے کو بڑی دیر کے بعد

یہ وہ خنجر ہیں جو اپنوں پہ بھی چل جاتے ہیں

ہم کو آتا نہیں زخموں کی نمائش کرنا

خود ہی روتے ہیں تڑپتے ہیں بہل جاتے ہیں

جو سمجھتے ہیں حوادث کو وہ کھلونے کی طرح

ان سے طوفان بھی بچ بچ کے نکل جاتے ہیں

عزم والے کبھی ہمت نہیں ہارا کرتے

اشک عذرا کے یہ کہہ کہہ کے سنبھل جاتے ہیں


عذرا عادل رشید

No comments:

Post a Comment