کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے
ذرا سوچو ہوا دینے سے پہلے
ہر اک فرعون کو ملتی ہے مہلت
کلیمی کا عصا دینے سے پہلے
کوئی جھوٹی گواہی بھی نہیں تھی
بڑی تعداد میں تھا میرا لشکر
دیا گھر کا بجھا دینے سے پہلے
سنا اس کی آنکھوں میں تھے آنسو
میرے خط کو جلا دینے سے پہلے
یہ جنگل بے تحاشہ جاگتا تھا
پرندوں کو اڑا دینے سے پہلے
اسی کو یاد کرنا پڑ گیا ہے
اسے یکسر بھلا دینے سے پہلے
کرامت بخاری
No comments:
Post a Comment