Monday, 16 November 2015

بحر و بر افلاک و انجم سخت حیرانی میں تھے

بحر و بر افلاک و انجم سخت حیرانی میں تھے
کتنے ہیبت ناک منظر شکلِ انسانی میں تھے
سر بہ سجدہ تھے نظر تک سلسلے اشجار کے
دُور تک پھیلے ہوئے صحرا دعا خوانی میں تھے
ہم کسی چہرے میں آ کر جلوہ گر کب ہو سکے
عکس کے مانند ہم بہتے ہوئے پانی میں تھے
اب کے سیلِ وقت تو سب کچھ بہا کر لے گیا
ورنہ باقی کچھ ابھی آثار ویرانی میں تھے
ڈُوبتے سورج پہ اب تو کر رہے ہیں سب ہی طنز
چڑھتے سورج کی سبھی کل تک ثنا خوانی میں تھے
لے کے ہم سرمایۂ جاں بھاگتے محسنؔ کہاں
راستے سارے ہی رہزن کی نگہبانی میں تھے

محسن زیدی

No comments:

Post a Comment