Thursday, 7 April 2022

آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے

 آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے

وہ درد کا پودا جو مِرے دل میں اگا ہے

جاں دے کے بھی چاہوں تو اسے پا نہ سکوں میں

وہ چاند کا ٹکڑا جو دریچے میں جڑا ہے

سیلاب ہیں چہروں کے تو آواز کے دریا

یہ شہرِ تمنا تو نہیں دشت‌ِ صدا ہے

اصغر! یہ سفر شوق کا اب کیسے کٹے گا

جو ہم نے تراشا تھا وہ بت ٹوٹ گیا ہے


اصغر گورکھپوری

No comments:

Post a Comment