Monday, 16 November 2020

ویسے تو رات کب کوئی بھاری نہیں ہوئی

 ویسے تو رات کب کوئی بھاری نہیں ہوئی

جیسی ہے آج ایسی لاچاری نہیں ہوئی

اس کا طریق اور تھا،۔ اپنا طریق اور

سو زندگی سے عمر بھر یاری نہیں ہوئی

کس واسطے ہوا سے خود بڑھ کے ملاؤں ہاتھ

کچھ مضمحل ضرور ہوں، ہاری نہیں ہوئی

کب اعتبارِ عشق دیا تُو نے بھی مجھے؟

پھر کیا عجب جو مجھ سے دلداری نہیں ہوئی

نیند آ گئی ہے ہجر کی سولی پہ بھی تجھے

یعنی کہ آنکھ خواب سے عاری نہیں ہوئی

لوگوں میں دن، تو کروٹوں میں رات کٹ گئی

اس سے بچھڑ کے شام گزاری نہیں ہوئی

مختار جو بنا دے تجھے میری روح پر

ایسی کوئی سند ابھی جاری نہیں ہوئی

مٹی میں داب کر مری مٹی ہیں خوش عزیز

خود اپنی موت مر گئی کاری نہیں ہوئی

خود اپنے حق میں دونوں ہاتھ اس نے اٹھا دئیے

پھر اس کے بعد رائے شماری نہیں ہوئی


شہناز نور

No comments:

Post a Comment