Monday, 16 November 2020

توبہ توبہ کیسی گھڑی ہے

 توبہ توبہ کیسی گھڑی ہے

سب کو اپنی اپنی پڑی ہے

ہجر کی رات آئی تو جانا

شب یہ قیامت سے بھی بڑی ہے

کون یہاں فریاد سنے گا؟

کاسہ بکف دنیا ہی کھڑی ہے

دُکھ کی رُت میں رونے والو

دُکھ بھی جیون کی ہی کڑی ہے

میرے جیون کے آنچل میں

آشاوں کی لیس جڑی ہے

ہرسُو چراغاں کرتی رہوں گی

آندھی اگرچہ ضد پہ اڑی ہے

ہاتھ نہ آیا ساحل تو کیا

سعدیہ طوفانوں سے لڑی ہے


سعدیہ صدف

No comments:

Post a Comment