احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں
کیسے تراشوں تجھ کو کہ آزر نہیں ہوں میں
یہ کم نہیں کہ اپنا بتاتے ہیں مجھ کو لوگ
یہ اور بات خود کو میسر نہیں میں
میں تجھ سے چند قطرے طلب کس لیے کروں
مے خانہ میرے نام ہے ساغر نہیں ہوں میں
واقف ہوں اپنی ذات کی اچھائیوں سے میں
مانا تری نگاہ میں بہتر نہیں ہوں ہوں
سیراب مجھ سے ہوتی ہے تشنہ لبی سدا
میٹھی ندی ہوں ترش سمندر نہیں ہوں میں
پرچم ازل سے میری محبت کا ہے بلند
تیری طرح جفاؤں کا لشکر نہیں ہوں میں
مینا اب ان کے ہونٹوں پہ اشعار ہیں مرے
جو لوگ کہہ رہے تھے سخنور نہیں ہوں میں
مینا نقوی
انا لله وانا اليہ راجعون؛ مینا نقوی اس جہان فانی کو الوداع کہہ گئیں۔
No comments:
Post a Comment