Monday, 16 November 2020

احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں

 احساس کی امین ہوں پتھر نہیں ہوں میں

کیسے تراشوں تجھ کو کہ آزر نہیں ہوں میں

یہ کم نہیں کہ اپنا بتاتے ہیں مجھ کو لوگ

یہ اور بات خود کو میسر نہیں میں

میں تجھ سے چند قطرے طلب کس لیے کروں

مے خانہ میرے نام ہے ساغر نہیں ہوں میں

واقف ہوں اپنی ذات کی اچھائیوں سے میں

مانا تری نگاہ میں بہتر نہیں ہوں ہوں

سیراب مجھ سے ہوتی ہے تشنہ لبی سدا

میٹھی ندی ہوں ترش سمندر نہیں ہوں میں

پرچم ازل سے میری محبت کا ہے بلند 

تیری طرح جفاؤں کا لشکر نہیں ہوں میں

مینا اب ان کے ہونٹوں پہ اشعار ہیں مرے       

جو لوگ کہہ رہے تھے سخنور نہیں ہوں میں


مینا نقوی


انا لله وانا اليہ راجعون؛ مینا نقوی اس جہان فانی کو الوداع کہہ گئیں۔

No comments:

Post a Comment