Monday, 16 November 2020

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

چراغ سحر ہیں بجھائے ہوئے ہیں

جو غم کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں

وہ سینے میں شعلے چھپائے ہوئے ہیں

سناؤ یہ مژدے غموں کے اے لوگو

یہ نغمے سنے اور سنائے ہوئے ہیں

گنوائے ہوئے ہیں وہ سب کچھ ہی اپنا

جو شعلوں سے دامن جلائے ہوئے ہیں

ہمیں آزمائے ہوئے ہے زمانہ

زمانے کو ہم آزمائے ہوئے ہیں

کسک درد کی پوچھیے ان دلوں سے

جو مدت سے یہ بار اٹھائے ہوئے ہیں

بصد شوق آئیں مِری انجمن میں

نگاہیں ہم اپنی بچھائے ہوئے ہیں

ہم آداب سے زندگی کے ہیں واقف

ہم ہی اپنا سب کچھ لٹائے ہوئے ہیں

تِری یاد کی یہ کسک میٹھی میٹھی

نشاں تھے یہاں کچھ مٹائے ہوئے ہیں

نہ مایوس ہو زندگی کشمکش سے

تِری بزم کو ہم سجائے ہوئے ہیں

اٹھائے ہیں شاداب گل لوگ جیسے

یوں بارِ الم ہم اٹھائے ہوئے ہیں

اٹھا ساز ہستی تِرے ساتھ ہوں میں

یہ نغمے مِرے گنگنائے ہوئے ہیں

وہ رشتوں کی عظمت کو کیا جانیں اشرف

جو کانٹوں سے دامن بچائے ہوئے ہیں


اشرف باقری

No comments:

Post a Comment