خوشی سے کر تو لیا فیصلہ ہمارے بغیر
وہ خوش ہوا تو لگے گا بھی کیا ہمارے بغیر
اور اگلے روز نیا دوست چن لیا اس نے
وہ ایک دن بھی نہیں رہ سکا ہمارے بغیر
چراغ بجھتے ہوئے کہہ گئے ہواؤں سے
تمہارا ہونا بھی کیا رہ گیا ہمارے بغیر
پرانی دستکیں اس بات پر الجھتی رہِیں
یہ در کھلا ہے تو کیسے کھلا ہمارے بغیر
سوال یہ نہیں، منزل ملی، نہیں ملی دوست
سوال یہ ہے، وہ چل ہی پڑا ہمارے بغیر
ہمیں بھی سارے اشارے کھلے ملے احمر
اسے بھی راستہ آساں لگا ہمارے بغیر
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment