Monday, 16 November 2020

خوشی سے کر تو لیا فیصلہ ہمارے بغیر

 خوشی سے کر تو لیا فیصلہ ہمارے بغیر

وہ خوش ہوا تو لگے گا بھی کیا ہمارے بغیر

اور اگلے روز نیا دوست چن لیا اس نے

وہ ایک دن بھی نہیں رہ سکا ہمارے بغیر

چراغ بجھتے ہوئے کہہ گئے ہواؤں سے

تمہارا ہونا بھی کیا رہ گیا ہمارے بغیر

پرانی دستکیں اس بات پر الجھتی رہِیں

یہ در کھلا ہے تو کیسے کھلا ہمارے بغیر

سوال یہ نہیں، منزل ملی، نہیں ملی دوست

سوال یہ ہے، وہ چل ہی پڑا ہمارے بغیر

ہمیں بھی سارے اشارے کھلے ملے احمر

اسے بھی راستہ آساں لگا ہمارے بغیر


احمر فاروقی

No comments:

Post a Comment