میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن
مجھ میں رکھا ہے کوئی رات کا مارا ہوا دن
تم مجھے آنکھ میں کاٹی ہوئی اک شب دے دو
میرے گھر میں جو پڑا ہے وہ تمہارا ہوا دن
آج بھی چیڑ کی خوشبو کی طرح ہے مجھ میں
جھیل چشمے پہ تیرے ساتھ گزارا ہوا دن
تُو کہ جیسے کوئی صحرا میں گزاری ہوئی رات
میں کہ گھوڑوں کی کسی ریس میں ہارا ہوا دن
یہ حسن آج نہیں کل کا ہی دن ہے شاید
وقت نے پہن لیا پھر سے اتارا ہوا دن
حسن مسعود
No comments:
Post a Comment