Monday, 16 November 2020

میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن

 میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن

مجھ میں رکھا ہے کوئی رات کا مارا ہوا دن

تم مجھے آنکھ میں کاٹی ہوئی اک شب دے دو

میرے گھر میں جو پڑا ہے وہ تمہارا ہوا دن

آج بھی چیڑ کی خوشبو کی طرح ہے مجھ میں

جھیل چشمے پہ تیرے ساتھ گزارا ہوا دن

تُو کہ جیسے کوئی صحرا میں گزاری ہوئی رات

میں کہ گھوڑوں کی کسی ریس میں ہارا ہوا دن

یہ حسن آج نہیں کل کا ہی دن ہے شاید

وقت نے پہن لیا پھر سے اتارا ہوا دن


حسن مسعود

No comments:

Post a Comment