یہ تلازمے، یہ علامیے ذرا دور رکھ
مرے غم سے اپنے مکالمے ذرا دور رکھ
میں ہوا سے محوِ کلام ہوں، ابھی صبر کر
یہ تسلیوں کے بجھے دِیے ذرا دور رکھ
ابھی جل بجھیں گے یہ موم کے ترے آفتاب
انہیں وحشتوں کے چراغ سے ذرا دور رکھ
مری بندگی کے نشان ہیں مرے ہاتھ پر
تُو جبین و سجدہ کے آبلے ذرا دور رکھ
اسے عشق نامے سے کام ہے مجھے عشق سے
یہ جو نام ہے مرے نام سے ذرا دور رکھ
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment