جب بھی پیشانئ مہ تاب پہ بل پڑتے ہیں
ہم تیرے شہر سے چپ چاپ نکل پڑتے ہیں
شام ہوتے ہی تیرے شہر کے سارے رستے
دھند ہوتی ہوئی منزل کو نکل پڑتے ہیں
روک سکتا ہوں میں سانسوں کو مگر یہ آنسو
جب تیری بات نکتی ہے نکل پڑتے ہیں
اپنی حالت یہ ہوئی ہے کہ گلی میں پتھر
دیکھئے آج ہی پڑتے ہیں کہ کل پڑتے ہیں
سوچ لیتے ہیں یہ ہر بار نہ جائیں مرشد
آپ جب پیار سے کہتے ہیں تو چل پڑتے ہیں
مرشد سعید ناصر
No comments:
Post a Comment