Monday, 16 November 2020

جب بھی پیشانی مہتاب پہ بل پڑتے ہیں

 جب بھی پیشانئ مہ تاب پہ بل پڑتے ہیں

ہم تیرے شہر سے چپ چاپ نکل پڑتے ہیں

شام ہوتے ہی تیرے شہر کے سارے رستے

دھند ہوتی ہوئی منزل کو نکل پڑتے ہیں

روک سکتا ہوں میں سانسوں کو مگر یہ آنسو

جب تیری بات نکتی ہے نکل پڑتے ہیں

اپنی حالت یہ ہوئی ہے کہ گلی میں پتھر

دیکھئے آج ہی پڑتے ہیں کہ کل پڑتے ہیں

سوچ لیتے ہیں یہ ہر بار نہ جائیں مرشد

آپ جب پیار سے کہتے ہیں تو چل پڑتے ہیں


مرشد سعید ناصر

No comments:

Post a Comment