Monday, 16 November 2020

آنکهیں اس کی نیم غزالی اور باتیں افسانوں سی

 آنکهیں اس کی نیم غزالی اور باتیں افسانوں سی

چہرہ بالکل پریوں جیسا لگتی ہے انسانوں سی

پیار پریت کی ریت چلی تو بازو تهام کے بولی تهی

تُو پینڈو، تُو عاشق، تیری ہر حرکت دیوانوں سی

بات کرے تو آنکهیں گم صم ہاتھ مچائیں شور بہت

اتنی قربت دیتی ہے اور رہتی ہے بیگانوں سی

پہلے اس کا میٹها لہجہ نیند مری کو شہد کرے

پهر مجھ میں بکهری جاتی ہے کهیتوں سی کهلیانوں سی

ٹهہری ٹهہری سانسیں اس کی نیم تبسم خاموشی

ٹهنڈے ٹهنڈے موسم میں گرمی وہ رستورانوں سی

اپنا کام پڑے تو پهر وہ نوکر بهی اور چاکر بهی

میری باری صُمٌّ بُكْمٌ شاہوں کے دربانوں سی

دیس بدیس سعید پهرا اک یاد کو لے کر سینے میں

کالی بهوری یادوں میں اک یاد سفید پٹهانوں سی


سعید سادھو

سعید قریشی

No comments:

Post a Comment