آنکهیں اس کی نیم غزالی اور باتیں افسانوں سی
چہرہ بالکل پریوں جیسا لگتی ہے انسانوں سی
پیار پریت کی ریت چلی تو بازو تهام کے بولی تهی
تُو پینڈو، تُو عاشق، تیری ہر حرکت دیوانوں سی
بات کرے تو آنکهیں گم صم ہاتھ مچائیں شور بہت
اتنی قربت دیتی ہے اور رہتی ہے بیگانوں سی
پہلے اس کا میٹها لہجہ نیند مری کو شہد کرے
پهر مجھ میں بکهری جاتی ہے کهیتوں سی کهلیانوں سی
ٹهہری ٹهہری سانسیں اس کی نیم تبسم خاموشی
ٹهنڈے ٹهنڈے موسم میں گرمی وہ رستورانوں سی
اپنا کام پڑے تو پهر وہ نوکر بهی اور چاکر بهی
میری باری صُمٌّ بُكْمٌ شاہوں کے دربانوں سی
دیس بدیس سعید پهرا اک یاد کو لے کر سینے میں
کالی بهوری یادوں میں اک یاد سفید پٹهانوں سی
سعید سادھو
سعید قریشی
No comments:
Post a Comment