Monday, 16 November 2020

دنیا سمجھ رہی تھی سہارے مرے لئے

 دنیا سمجھ رہی تھی سہارے مِرے لیے

لیکن بنے تھے بوجھ کنارے مرے لیے

اس کو خبر نہ تھی میں حقیقت پسند ہوں

وہ کہہ رہا تھا لائے گا تارے مرے لیے

آنکھوں میں اس کی کتنی محبت دکھائی دی

ڈالی سے جس نے پھول اتارے مرے لیے

اس کو کبھی نہ دینا کوئی دکھ مرے خدا

لکھ دے جہان بھر کے خسارے مرے لیے

دیکھو کبھی گریں نہ یہ پلکوں کی باڑ سے

جتنے بھی اشک ہیں یہ تمہارے، مرے لیے

ناہید تیرگی سے دل اُکتا گیا مرا

کوئی تو آفتاب ابھارے مرے لیے


ناہید کیانی

No comments:

Post a Comment