Monday, 19 April 2021

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رتجگوں کا ہوا

 کبھی جو معرکہ خوابوں سے رتجگوں کا ہوا

عجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا

جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاقِ دل میں کبھی

کسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دِیوں کا ہوا

لکھا گیا ہے مِرا نام دشمنوں میں سدا

شمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا

مذاق اڑاتے تھے آندھی سے پہلے سب میرا

جو میرے گھر کا تھا پھر حال سب گھروں کا ہوا

بدل رہی ہیں مِرے ہاتھ کی لکیریں پھر

کہا نہ اب کے بھی شاید نجومیوں کا ہوا

وفا شعار طبیعت کا یہ صلہ ہے نور

مِری حیات کا ہر لمحہ دوسروں کا ہوا


شہناز نور

No comments:

Post a Comment