Monday, 10 January 2022

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا

 دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بے گانے کا

اختر جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا

آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب

کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا

تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات

ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا

تم بھی سنتے تو رو دیتے ہم بھی کہتے تو روتے

جان کے ہم نے چھوڑ دیا ہے اک حصہ افسانے کا

کچھ تو ہے جو اپنایا ہے ہم نے کوئے ملامت کو

ویسے اور طریقہ بھی تھا اختر! دل بہلانے کا


اختر لکھنوی

No comments:

Post a Comment