Monday, 10 January 2022

اسیر لوگو اٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو

رہائی


اسیر لوگو اٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو

پہاڑ مردہ روایتوں کے

پہاڑ اندھی عقیدتوں کے

پہاڑ ظالم عداوتوں کے

ہمارے جسموں کے قید خانوں میں

سیکڑوں بے قرار جسم

اور اداس روحیں سسک رہی ہیں

وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیں

ہم ان کو آزاد کب کریں گے

ہمارا ہونا

ہماری ان آنے والی نسلوں کے واسطے ہے

ہم ان کے مقروض ہیں

جو ہم سے وجود لیں گے نمود لیں گے

کٹے ہوئے ایک سر سے لاکھوں سروں کی تخلیق

اب کہانی نہیں رہی ہے

لہو میں جو شے دھڑک رہی ہے گمک رہی ہے

ہزاروں آنکھیں

بدن کے خلیوں سے جھانکتی بے قرار آنکھیں

یہ کہہ رہی ہیں اسیر لوگو 

جو زرد پتھر کے گھر میں

یوں بے حسی کی چادر لپیٹ کر سو رہے ہیں

ان کو کہو کہ اٹھ کر پہاڑ کاٹیں

ہمیں رہائی کی سوچنا ہے


عشرت آفریں

No comments:

Post a Comment