ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں
ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں
ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی
فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں
مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں
یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں
کوئی تو ڈوبنے والوں جو دیکھنے آئے
بھنور کو دیکھ کے آیا ہوں انہماک سے میں
ہوا سے جتنی محبت تھی روشنی سے نہ تھی
دِیے کا پوچھتا شجرہ وگرنہ طاق سے میں
مِری بساط سے باہر ہے باغباں کی ہوس
ہمیشہ چُنتا رہا ہوں یہ میوہ خاک سے میں
عمار زیدی
No comments:
Post a Comment