Sunday, 18 January 2026

ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں

ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں

ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں

ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی

فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں

مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں

یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں

کوئی تو ڈوبنے والوں جو دیکھنے آئے

بھنور کو دیکھ کے آیا ہوں انہماک سے میں

ہوا سے جتنی محبت تھی روشنی سے نہ تھی

دِیے کا پوچھتا شجرہ وگرنہ طاق سے میں

مِری بساط سے باہر ہے باغباں کی ہوس

ہمیشہ چُنتا رہا ہوں یہ میوہ خاک سے میں


عمار زیدی 

No comments:

Post a Comment