Friday, 16 January 2026

در بدر زندگی کے چکر میں

 در بدر زندگی کے چکر میں

گھومتے ہیں خوشی کے چکر میں

روز کرتے ہیں ایک تازہ گناہ

آخری آخری کے چکر میں

پہلے چکر ابھی نہیں اترے

آ گئے پھر کسی کے چکر میں

دشت میں پھر رہے ہیں چکرائے

بانورے، سانوری کے چکر میں

ہو نہ جائیں گلی گلی رسوا

یعنی ہم اک گلی کے چکر میں

سینکڑوں سے  ہے دشمنی اب تو

ایک سے دوستی کے چکر میں

کھل گئے راز ہائے دل جاذل

 شاعری واعری کے چکر میں


جیم جاذل

No comments:

Post a Comment